Breaking News
Home / Uncategorized / افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور اپنے اپنے فائدے

افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور اپنے اپنے فائدے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ اور طالبان کے درمیان ملاقاتوں کی آخری اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں (فائل فوٹو)

طالبان ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اُن کے جس رہنما حافظ محب اللہ کو گذشتہ جمعہ کو پشاور سے گرفتار کیا تھا انھیں پیر کو ڈرامائی انداز میں واپس رہا کر دیا گیا ہے۔

حافظ محب اللہ کی گرفتاری اور رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان ملاقاتوں کی آخری اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ قطر میں طالبان کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں شریک تمام ممالک اپنے اپنے مفادات اور روایتی حریفوں کے خلاف ایجنڈے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے پیر کی شام دھمکی آمیز اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اپنے وعدے کی تکمیل نہیں کرتا تو طالبان امن مذاکرات ملتوی کر سکتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کے دورے کے موقع پر طالبان رہنما کی ’گرفتاری‘

افغانستان: طالبان کا تیل کے ’چھوٹے کنویں‘ پر حملہ

طالبان کے پاس کتنی دولت ہے؟

اس اعلامیے کے مطابق نومبر میں دوحہ میں ہونے والے امریکہ اور طالبان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ اگلے اجلاس میں افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا اور افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے پر بات ہو گی، لیکن اب امریکہ اُسی ایجنڈے سے منہ پھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

طالبان دور میں وزیر حج اور اوقاف رہنے والے اور کچھ سال قبل کابل کے لیے طالبان کی طرف سے شیڈو گورنر حافظ محب اللہ افغانستان میں طالبان دور کے بعد کچھ عرصے کے لیے ایران میں مقیم تھے اور پھر پشاور چلے آئے۔ طالبان ذرائع کے مطابق اس وقت حافظ محب اللہ کسی اہم عہدے پر نہیں ہیں اور اسی لیے پاکستان نے اُنھیں چھوڑ دیا۔

تاہم طالبان ہی میں بعض ذرائع کہتے ہیں، کہ حافظ محب اللہ کی گرفتاری سے پاکستان صرف طالبان رہنماوں کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ اُن کی بات مانیں اور افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ اور طالبان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ اگلے اجلاس میں افغانستان سے افواج کے انخلا اور افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے پر بات ہوگی

امریکہ ایک عرصے سے پاکستان پر اسی لیے دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اُنھیں مذاکرات کے لیے راضی کرے۔ تاہم تجزیہ کار احمد رشید کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے بعض ذرائع کے مطابق خود امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی ابھی تک پیش رفت نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کی منسوخی کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو قریب سے دیکھنے والے دوحہ میں طالبان دفتر کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ اب مذاکرات میں امریکہ اور طالبان سے زیادہ دیگر ممالک کے مطالبات ہیں، جن میں سعودی عرب، ایران، قطر اور پاکستان شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران اور قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قطر کے خلاف ان مذاکرات میں اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

طالبان ذرائع نے پاکستان پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ انھی مذاکرات میں اپنے اقتصادی بحران ختم کرنے کے ایجنڈے کے ساتھ پیش پیش ہیں۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مصنف احمد رشید کہتے ہیں، امریکہ کی سٹریٹیجی میں سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ صرف طالبان سے بات چیت کر رہا ہے اور علاقائی سطح پر بات چیت کے لیے کوشش نہیں کر رہا۔

’ریجنل بات چیت امریکہ خود نہیں کر سکتا، کیوں کہ ایران اور روس کے ساتھ اُن کے رابطے نہیں ہیں اور اب چین کے ساتھ بھی ٹھکرا رہا ہے‘۔

احمد رشید کے مطابق اقوام متحدہ یا یورپی یونین ریجنل بات چیت کی ذمہ داری لیں، تاکہ افغانستان کے ہمسایوں کے آپس میں بات چیت ہو، پھر یہ مذاکرات جلد ہی معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔

—–Shared for Information Purpose Only—-