Breaking News
Home / Uncategorized / کیمرہ مین پر تشدد: نواز کا افسوس مگر یہ ہوا کیوں؟

کیمرہ مین پر تشدد: نواز کا افسوس مگر یہ ہوا کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف آج کل پھر خبروں میں ہیں اور وجہ اس بار احتساب عدالت نہیں بلکہ ان کے محافظوں کے ایک نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر تشدد کا واقعہ ہے۔

یہ واقعہ پیر کو قومی اسمبلی کے احاطے سے نواز شریف کی روانگی کے وقت پیش آیا اور اس کے ویڈیو کلپس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کیے جا رہے ہیں جبکہ واقعے میں ملوث دونوں محافظوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نواز شریف نے ابتدائی طور پر خاموش اختیار کرنے کے بعد منگل کو اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں افسوس ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا اور وہ خود بھی اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی میڈیا کا تسلی بخش علاج

کیا پی ٹی ایم کی میڈیا کوریج کرنا جرم ہے؟

چینی اینکر اور ہمارے اینکر

پیارا میڈیا اور آرمی چیف

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے پہلی مرتبہ اس واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

ان کا موقف تھا کہ جب وہ پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر نکل رہے تھے تو سکیورٹی اہلکار میرے لیے راستہ بنا رہا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ کیمرہ مین جب ان کی گاڑی کے پاس آئے تو سکیورٹی اہلکار شکور نے کیمرہ مین کو دھکا دیا۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کسی کو راستے سے ہٹانے کا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ اس کے بعد کیمرہ مین نے کیمرہ شکور کے سر پر مارا جس سے اس کے سر سے خون نکلا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مجھے اعتراض اس بات پر بھی ہے کہ کیمرہ مین نے بھی شکور کو مارا تھا۔‘ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ زیادتی کہیں سے بھی نہیں ہونی چاہیے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اُنھیں افسوس ہے کہ وہ اس معاملے پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں اور یہ موقع نہیں آنا چاہیے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیمرہ مین کو اچانک کیوں نشانہ بنایا گیا؟

ویڈیو کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے ہوتے ہیں تو اس دوران حسب معمول ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینز کا ہجوم تھا جو ان کی روانگی کی فوٹیج بنا رہے تھے۔

اسی دوران گاڑی کے ساتھ کھڑا ایک محافظ گاڑی پیچھے کی جانب بھاگتا ہے اور اس کے بعد دوسرے کلپ میں کیمرہ مین نیچے گرتا ہے اور ایک دوسرا سکیورٹی گارڈ اسے لات مارتا ہوا اوپر سے گزر جاتا ہے۔

اس دوران میڈیا کے نمائندے ایک طرف کیمرہ مین کو جلد ہسپتال پہنچانے کے لیے شور مچاتے ہیں اور جب سابق وزیراعظم کی گاڑی روانہ ہوتی ہے تو وہاں موجود افراد گاڑی میں موجود نواز شریف کو مخاطب کر کے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ’دیکھیں میاں صاحب کیا ہو گیا ہے‘ لیکن گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے۔‘

دوسری جانب ایک محافظ جلدی جلدی نواز شریف کے ساتھ سکیورٹی گاڑی میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک شخص کو اس کو گریبان سے پکڑتا ہے اور دوسروں کو کہتا ہے کہ پکڑو اس کو اس نے کیمرہ مین کو لاتیں ماری ہیں۔ اسی دوران پیچھے سے ایک خاتون کی آواز بھی آتی ہے کہ پکڑو اسے۔۔۔ پکڑو اسے اور جس شخص کو گریبان سے پکڑا گیا ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا اور اسی دوران گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے جو کہ بعد میں تیزی سے روانہ ہو جاتی ہے۔

کیمرہ مین واجد علی کیا کہتے ہیں؟

مضروب کیمرہ مین واجد علی کا تعلق نجی ٹی وی چینل سما سے ہے اور اس وقت اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کے ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کی قومی اسمبلی سے روانگی کی مختلف زاویوں سے فوٹیج بنا رہے تھے جس میں پہلے ان کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے فوٹیج بنائی اور پھر تیزی سے گاڑی کے پیچھے کی جانب مڑا تا کہ آگے جا کر مزید فوٹیج بنا سکوں۔۔۔ آگے جانے کے لیے بھاگا تو اچانک کسی نے پیچھے سے میرے پر حملہ کیا اور اس میں نیچے گر گیا اور مجھے ہوش اس وقت آیا جب میں ہسپتال میں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آخری بات اتنی یاد ہے کہ وہاں لوگ کہہ رہے تھے کہ پکڑو اس کو پکڑو اس کو۔۔۔۔‘

واجد علی نے کہا کہ یہ بس اتنا اچانک ہوا کہ انھیں اندازہ نہیں ہو سکا کہ اس چیز سے ان پر وار کیا گیا۔ کیا وہ مکا تھا، کوئی ہتھیار تھا۔۔۔۔ کچھ اندازہ نہیں ہوا۔۔۔۔‘

واجد علی کے بقول انھوں نے نواز شریف کے دعوے کے برعکس فوٹیج بناتے ہوئے محافظوں سے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی اور کسی ایونٹ کے دوران اکثر درخواست کی جاتی ہے کہ تھوڑا پیچھے ہٹ جائیں تاکہ اچھی فوٹیج بن سکے لیکن پیر کے واقعے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

واجد علی کو زیادہ شدید چوٹیں نہیں آئی ہیں اور جلد ہی صحت یاب ہو کر گھر چلے جائیں گے لیکن بقول ان کے وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اس گارڈ سے ضرور ملنا چاہیں گے جس نے ان پر حملہ کیا تاکہ اس سے پوچھ سکیں کہ کس وجہ سے انھیں ٹارگٹ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر ہنگامہ

اس واقعے کے فوری بعد ہی اس کے ویڈیو کلپس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہو گئے جس میں کیمرہ مین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وہاں نہ رکنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ماریہ ظریف نے زخمی کیمرہ مین کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کی کہ ایسا ہوتا ہے جو سکیورٹی گارڈ اپنی حد کو بھول جاتے ہیں اور خود کو برتر سمجھتے ہوئے دوسروں پر ظالمانہ حملے کرتے ہیں۔

انھوں نے اس کے ساتھ وہاں کھڑے دیگر افراد سے بھی سوال کیا کہ ان کی ذمہ داری کیا صرف واقعے کا سنیپ شاٹ بنانے کی ہے اور پھر مدد کے بارے میں یاد آنا۔

انوشا نے اپنی ٹویٹ میں سما کے کیمرہ مین پر تشدد کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل شرمناک فعل قرار دیا اور اس کے ساتھ اس حیرت کا اظہار بھی کیا کہ مسلم لیگ نون کے چند حمایتی اس خوفناک واقعے کی حمایت کر رہے ہیں۔۔۔ اس غیر انسانی واقعے کا دفاع اور جواز پیش کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔۔۔ شرمناک اور باعث افسوس۔۔۔۔

ٹویٹر پر عام لوگ تو اس واقعے پر کیمرہ مین کے ساتھ ہمددری کا اظہار کر کے سابق وزیراعظم پر تنقید تو کر ہی رہے ہیں لیکن اس میں سرکاری میڈیا نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کو ٹویٹ کیا ہے۔

سرکاری ریڈیو نے ویڈیو کلپ کے ساتھ ٹویٹ کیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات نے مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف کے گارڈز کی نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر حملے کی مذمت کی ہے۔

اس ٹویٹ کے بعد ٹویٹر پر یہ بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت قومی اسمبلی کی سکیورٹی پر تعینات سرکاری اہلکار کہاں تھے اور وہ موجود پولیس اہلکاروں نے ان گارڈز کو پکڑا کیوں نہیں۔

نجی محافظ جوڈیشل ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ادھر اسلام آباد پولیس نے میاں نواز شریف کے ذاتی سکیورٹی گارڈز کو مقامی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ ملزمان سے کوئی چیز برآمد نہیں کرنی اس لیے اُنھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے گا۔

تھانہ سیکرٹریٹ کی پولیس کے مطابق اب تک اس واقعے سے متعلق جو تفتیش کی گئی ہے اس کی بنیاد پر جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ملزمان کا جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس کو درکار نہیں ہیں۔

گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان محمد منصب اور محسن علی پر مقامی نجی ٹی وی چینل (سما) کے کیمرہ مین پر تشدد کا الزام ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ان دونوں ملزمان کا تعلق پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد سے ہے اور یہ دونوں ملزمان سابق وزیر اعظم کے ذاتی گارڈز میں شمار ہوتے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان میں حملہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا بھی شامل ہیں اور یہ دنوں دفعات ناقابل ضمانت جرم کی مد میں آتی ہیں۔

دوسری طرف مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ تیسرے ملزم شکور کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا تاہم ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

—–Shared for Information Purpose Only—-

Please check the Pop-up.

We would like to keep you updated with special notifications.