جمعرات , اگست 22 2019
Breaking News
Home / Uncategorized / پلوامہ ہلاکتیں: سرینگر میں احتجاجی مارچ سے قبل کرفیو

پلوامہ ہلاکتیں: سرینگر میں احتجاجی مارچ سے قبل کرفیو

سرینگر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکام نے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوجی چھاؤنی کے ارد گرد دس کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام نے شہری ہلاکتوں کے خلاف سرینگر میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر کی جانب عوامی مارچ روکنے کے لیے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماؤں گذشتہ ہفتے پلوامہ میں تصادم کے دوران سات مظاہرین کی ہلاکت کے خلاف پیر کو سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر کی طرف عوامی مارچ کی کال دی تھی۔

سرینگر سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق علیحدگی پسندوں کے اتحاد ‘مشترکہ مزاحمتی فورم’ کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک کی کال پر ہونے والے مارچ کو روکنے کے لیے بادامی باغ میں واقع وادی کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی کے گردونواح میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

‘کشمیر میں ہلاکتوں کو روکا جائے’

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر: بچپن جو چھروں کی نذر ہوئے

آٹھ کشمیری شہریوں کی ہلاکت، تین روزہ سوگ اور احتجاج

پیلٹ گنز کا نشانہ بننے والی 19 ماہ کی کشمیری بچی

فورم کے بیان میں کہا گیا تھا: ‘بھارت روزانہ نہتے عوام کو تہہ تیغ کررہا ہے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں بھارتی فوج ایک ساتھ ہم سب کو مار دے، اسی لیے فوجی چھاؤنی کی طرف مارچ اب ناگزیر ہے۔’

تاہم فوجی ترجمان نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کال پر توجہ نہ دیں۔ ترجمان کے مطابق، ‘پاکستان اور کشمیر میں اس کے حمایتی لوگوں کو فوج کے سامنے کھڑا کر کے خون خرابے کو ہوا دے رہے ہیں۔ فوج ہمیشہ ضبط سے کام لیتی ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ ان کی گمراہ کن باتوں میں نہ آئیں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پلوامہ میں تصادم کے دوران سات مظاہرین کی ہلاکت کے خلاف پیر کو سرینگر میں تعینات ہندوستانی فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر کی طرف عوامی مارچ کی کال دی گئی ہے

خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو پلوامہ کے گاؤں سرنو میں ایک تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھوکر اپنے دو ساتھیوں سمیت مارے گئے، جسکے بعد جائے تصادم کے قریب ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں سات افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد کشمیر میں تین روزہ ہڑتال ہوئی۔

احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے حکام نے سرینگر کے بادامی باغ میں واقع فوجی چھاؤنی کے ارد گرد دس کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ پلوامہ اور دیگر اضلاع میں بھی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔

میر واعظ عمرفاروق اور سید علی گیلانی کو گھروں میں نظربند کیا گیا ہے تاہم محمد یاسین ملک گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں تاکہ وہ مارچ کی قیادت کر سکیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ مارچ کو ناکام بنانے کی خاطر ہر طرح کا حربہ آزمایا جارہا ہے۔

پلوامہ میں ہونے والی ہلاکتوں سے ہند نواز سیاسی خیمے میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رہنما علی محمد ساگر نے کہا کہ ‘بھارت کشمیر کو فوجی کالونی سمجھتا ہے اور ایک سازش کے تحت یہاں لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے تاکہ ملک میں الیکشن کی تیاری کی جا سکے۔’

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی فورم نے تین روزہ ہڑتال کی کال دی

سابق رکن اسمبلی انجینیئر رشید نے بھی اتوار کو اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف احتجاجی مارچ کیا تاہم انھیں گرفتار کرکے ذیلی جیل کوٹھی باغ میں قید کیا گیا۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے مبصرین کی ٹیم کو فوراً کشمیر روانہ کرے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں 230 عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف ‘آپریشن آل آؤٹ’ جاری ہے۔ یہ سال عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنوں کے حوالے سے نہایت خونی رہا۔

پولیس کے مطابق اب تک 240 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ نامعلوم مسلح افراد نے سات سیاسی کارکنوں کو بھی ہلاک کیا۔ اس کے علاوہ جائے تصادم کے قریب مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے متعدد واقعات میں اس سال 46 افراد مارے گئے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

—–Shared for Information Purpose Only—-