Breaking News
Home / Uncategorized / طالبان امریکہ ملاقات: ’امن کے لیے پاکستان کا پہلا عملی قدم‘

طالبان امریکہ ملاقات: ’امن کے لیے پاکستان کا پہلا عملی قدم‘

یہ زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان کم از کم تیسری ملاقات ہے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان کم از کم تیسری ملاقات ہے

افغانستان میں قیامِ امن کے سلسلے میں افغان طالبان کے نمائندے پیر کو متحدہ عرب امارات میں امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اگرچہ اس ملاقات میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تاہم پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان میں مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے جبکہ افغانستان نے اس ملاقات کو پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کے سلسلے میں پہلا عملی قدم قرار دیا ہے۔

یہ زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان کم از کم تیسری ملاقات ہے۔ اس سے قبل یہ قطر میں کم از کم دو مرتبہ مل چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

’پاکستان نے افغان طالبان ہمارے حوالے نہیں کیے ہیں‘

روس افغان طالبان کو مسلح کر رہا ہے: امریکی جنرل

’وقت آ گیا کہ افغان طالبان بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں‘

امریکہ کی افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں؟

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ قطر میں افغان طالبان کے نمائندے اس بات چیت میں شریک ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’عالمی برادری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ہمراہ پاکستان بھی افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے پرعزم ہے‘

افغان طالبان کا موقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر غیرملکی افواج کی موجودگی ملک میں امن کے قیام کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے تاہم وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ کابل حکومت کو تسلیم کرنے، آئین میں تبدیلیوں اور خواتین کے حقوق جیسے معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔

امریکہ نے ستمبر میں زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے نمائندۂ خصوصی مقرر کیا تھا اور اس نے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت پر رضامند کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

افغانستان کی پیس ہائی کونسل کے ترجمان احسن طاہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا یہ طے کرنا ہے کہ ’امن عمل کا آغاز کیسے ہو اور اس سلسلے میں کیسے آگے بڑھا جائے۔‘

ٹائم لائن
جنوری 2012 طالبان نے دبئی میں اپنا دفتر کھولنے کی ہامی بھری تاکہ امریکہ اور افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
جون 2013 افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات معطل کر دیے جب واشنگٹن نے اعلان کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا ارادہ رکھتا ہے
جولائی 2015 مذاکرات کا پہلا دور پاکستان کی ثالثی میں افغان حکومت کے نمائندگان اور افغان طالبان کے درمیان مری میں ہوئے، جس میں دونوں فریقین نے دوبارہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔
نومبر 2018 امریکہ کے افغانستان میں خصوصی نماےندے زلمے خلیل زاد نے طالبان حکام کے ساتھ قطر میں ملاقات کی جہاں انھوں نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بات جیت کی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’عالمی برادری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ہمراہ پاکستان بھی افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے پرعزم ہے۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت سے ’افغانستان میں خونریزی کا خاتمہ ہو گا اور خطے میں امن آئے گا۔‘

اتوار کی شب افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کے سلسلے میں لیا جانے والا پہلا عملی قدم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زلمے خلیل زاد نے اس ملاقات سے پہلے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید سے بھی ملاقات کی ہے

وزارتِ خارجہ کے ترجمان صبغت احمدی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘امریکہ نے بھی اپنا دباؤ بڑھایا ہے جس سے کچھ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ یہ نتائج وسیع پیمانے پر حاصل کیے جا سکیں گے۔’

اس سے قبل سنیچر کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے طالبان سے ہتھیار پھینک کر مذاکرات کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب پاکستان ان مذاکرات میں مدد کر رہا ہے تو افغان حکومت، طالبان اور دیگر گروہوں کو مفاہمت اور مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔

زلمے خلیل زاد نے اس ملاقات سے پہلے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید سے بھی ملاقات کی ہے۔

یہ بطور نمائندۂ خصوصی تقرری کے بعد ان کا خطے کے تیسرا دورہ ہے جس میں انھوں نے افغان طالبان کے نمائندوں کے علاوہ افغانستان، روس، پاکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان کے حکام سے بھی ملاقات کی اور افغانستان میں قیامِ امن کے بارے میں بات کی ہے۔

—–Shared for Information Purpose Only—-