4

ایشیا کا وہ ملک جو راتوں راتوں ہی مالدار ہو گیا

برتھ ڈے پارٹی

دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا میں متوسط طبقے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دارالحکومت جکارتہ سے ہماری نمائندہ ریبیکا ہنشکے کہتی ہیں کہ ان نئے امیروں کو انڈونیشیا کے ‘کریزی رِچ’ یعنی سرپھرے نو دولتیے کہا جا رہا ہے۔ یہاں ان کی کہانی ان کی زبانی پیش کی جا رہی ہے۔

ہمارے فرج کے دروازے پر لگے ایک رنگا رنگ دعوت نامے سے معلوم ہوا کہ ‘کتے کی تھیم’ پر مبنی ایک برتھ ڈے پارٹی میں مدعو کیا گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ بہت پیاری چیز ہے اور قدرے مختلف بھی، کیوں کہ عام طور پر جکارتہ میں کتوں کو نہ زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور نہ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال ہی ہوتی ہے۔

لیکن یہ واحد حیرت انگيز بات نہیں تھی۔ ایک دولت مند خاندان اپنی چھوٹی بیٹی کی چھٹی سالگرہ کے لیے جکارتہ کے سب سے مہنگے علاقے میں ایک اراضی کو اس دن کے لیے پارک میں تبدیل کر دیا تھا۔

سکیورٹی گارڈز ہمیں ایک گلی سے ہو کر ایک دوسری ہی دنیا میں لے گئے۔ وہاں حقیقی گھاس بچھائی گئی تھی جو کہ کنکریٹ کے اس جنگل میں یقینا ایک نادر چیز تھی۔ وہاں بھرپور درخت بھی تھے اور کتوں کے لیے ایک باڑا بھی تھا۔

ایک کونے میں کتوں کی نشونما کرنے والا ایک شخص تھا جسے اس خاص موقعے کے لیے لایا گیا تھا اور وہ کتوں کی مالش کر رہا تھا اور انھیں غسل دے رہا تھا۔

دوسرے کونے میں ایک ایئرکنڈیشنڈ خیمہ تھا جہاں بچوں کے والدین تازہ بنی ہوئی آئس کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور بعد میں شراب کا دور چلا تھا۔ یہاں الکوحل پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جس کا مطلب تھا کہ یہاں شراب مہنگی ملتی ہے۔

پارک کا مرکزی حصہ کتوں کی شکل کے غباروں سے بھرا تھا۔ ایک شخص بلبلے اڑا رہا تھا اور جبکہ ایک جگہ چکنی گیلی مٹی سے طرح طرح کے اجناس بنانے کا انتظام تھا۔

یہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور میں سولاویسی جزائر میں پالو کی تباہی کی رپورٹنگ کرکے واپس آئی تھی۔ یہ علاقہ سونامی اور زلزلے کی تباہ کاریوں کی زد میں تھا۔ یہاں آ کر مجھے عجیب احساس ہوا اور سب کچھ ماورائے حقیقت نظر آیا۔

‘اس سے آگے اب کیا ہو گا؟’ میں نے ایک دوسرے والدین کے کانوں سرگوشی کی۔ ‘اگر اسی طرح چلتا رہا تو 18ویں سالگرہ کی پارٹی میں کیا ہو گا؟’

انھوں نے جواب دیا: ‘بچے اس قسم کا مطالبہ نہیں کرتے، درحقیقت یہ ان کے والدین کی خواہشات کا اظہار ہے۔’

پارٹی سے ہم جو تحائف لے کر نکلے وہ ان تحائف سے تین گنا زیادہ تھے جو ہم لائے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا یہ انڈیا کی تاریخ کی سب سے مہنگی شادی ہے؟

پانچ ارب روپے کی شادی پر لوگوں کی برہمی

مجھے پتہ نہیں کہ اب تک میں حیرت زدہ کیوں ہوں۔ اس قسم کی پارٹیاں انڈونیشیا کے ان امیر گھرانوں کے بچوں میں عام ہے اور معمول کا حصہ ہے جن کے ساتھ میرے بچے سکول جاتے ہیں۔

ایک خاندان نے تو ایک فلم کمپنی کو بلایا تھا تاکہ وہ ہالی وڈ کی فلم ‘سوسائڈ سکواڈ’ کو اس طرح ایڈٹ کرے کہ جس بچی کی سالگرہ منائی جا رہی؛ ہے وہ اہم مناظر میں اس فلم کا کردار نظر آئے۔

بچوں نے اس ایڈٹ کردہ فلم کو سینیما جیسے بڑے سکرین پر ایک ہوٹل کی چھت پر موجود بال روم میں دیکھا۔

اس موقعے پر میں ایک دوسرے دور دراز صوبے پاپوا سے واپس آئی تھی جہاں بچے کھانے کی کمی کے سبب مر رہے تھے اور جہاں خسرے کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔

جب فلم ‘کریزی رچ ایشیئنز’ ریلیز ہوئی تھی تو لوگوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ‘کریزی رچ انڈونیشیئنز’ کی کہانیاں بیان کی تھی جس میں بطور خاص ملک کے دوسرے بڑے شہر سورا بایا کی کہانیاں زیادہ تھیں۔

‘کریزی رچ سوراباین’ اس وقت ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا جب ایک امیر طبقے کے سکول کی ٹیچر نے ایک خاندان کے بارے میں پہلیاں بجھانی شروع کی کہ اس خاندان کا نام بتاؤ جو ٹیکہ جاپان میں لگواتا ہو اور چھٹیاں یورپ میں گزارتا ہو۔ اب وہ اس کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہی ہیں جس پر فلم بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔

حال ہی مقامی میڈیا نے سورابایو میں ہونے والی ایک شاہانہ شادی کو ‘سر پھرے امیر سوراباینز’ کا نام دے دیا۔ اس میں انڈونیشیا اور بیرون سے سینکڑوں مہمانوں نے شرکت کی اور کہا جاتا ہے کہ اس دوران ایک جیگوار سپورٹس کار جیتنے کے لیے قرعہ اندازی بھی ہوئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ دولھے نے ونیشین مکاؤ ریزارٹ میں سینکڑوں اجنبیوں کے سامنے دلھن کو شادی کے لیے پروپوز کیا تھا۔ یہ اجنبی فلیش ماب یعنی یکایک کسی جگہ جمع ہوجانے والی بھیڑ کے ذریعے اکٹھے کیے گئے تھے۔

انڈونیشیا کے ترقی پذیر متوسط طبقے کے لوگ ملک کے مغربی علاقوں میں مرکوز ہو رہے ہیں، ان کے پاس اتنے پیسے ہیں جتنا کبھی ان کے والدین نے خوابوں میں بھی نہ سوچے ہوں۔ اور زیادہ تر لوگ اسے معمول کی چیز اور ضروری سمجھتے ہیں تاکہ دکھاوا کیا جا سکے۔

گذشتہ دو دہائيوں میں انڈونیشیا میں غربت میں تیزی سے کمی آنے کے نتیجے میں اب ہر پانچ میں سے ایک آدمی متوسط طبقے میں شامل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وقت کے ساتھ بدلتے عروسی ملبوسات

کہیں پیسے کے لیے قطاریں کہیں پیسہ پانی

اس کے بعد سے وہاں مصنوعات کا سیلاب سا آ گیا ہے۔ یہ نودولتیے اس جزائر کے سلسلے میں وسیع قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جن میں لکڑیاں، روغن تاڑ، کوئلہ، سونا اور کانسی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ جارحانہ دیسی سرمایہ کاری، کم ٹیکس اور مزدوری کے قانون کے نفاذ کی عدم موجودگی کا بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں جو نظام کی کمزوریوں سے واقف ہیں۔

سلیمون ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو نظام کو نہیں سمجھتے لیکن انھوں نے بھی ایک طرح سے اپنے بچوں کا مستقبل بنایا ہے جو ان کی اپنی زندگی سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

وہ جاروب کش ہیں اور ماہانہ ڈھائی سو ڈالر کماتے ہیں۔ وہ مینٹینگ کے امیر گھروں کے کوڑے لے جاتے ہیں جن میں کوڑے کے ڈھیر ہوتے ہیں اور جو بے لگام صارفیت کا مظہر ہیں۔

انھوں نے بے کار لکڑیوں سے ایک ٹھیلہ تیار کیا ہے جسے وہ ہاتھوں سے کھینچتے ہیں۔ میں نے اب تک جتنے مضبوط لوگ دیکھے ہیں ان میں وہ سب سے زیادہ مضبوط ہیں۔ میرے بچے اسے سپرمین کہتے ہیں۔ وہ ایسی تمام چیزوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں جس کی کوئی قیمت مل سکے۔ وہ ان کو چھانٹتے ہیں اور ہمارے یہاں جمع کرتے ہیں اور پھر اسے فروخت کر دیتے ہیں۔

سلیمون ہمارے گھر کے عقب میں ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ وہ دراصل اسی کے ساتھ آئے ہیں۔ جب ہم نے کرایے پر وہ مکان لیا تو وہ وہاں اکڑوں بیٹھے اور وہاں رہتے تھے اور ہم نے انھیں رہنے کے لیے پیچھے بنا کمرہ دے دیا۔

ہمیں خوشی ہے کہ بحث و مباحثے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا۔ اب ہمارے بچے انھیں ماموں کہتے ہیں۔

وہ فطری طور پر کسان ہیں اور انھوں نے ہمارے سوئمنگ پول کو مچھلیوں کا تالاب بنا دیا ہے جبکہ باغیچے کو کیلے کے باغ میں تبدیل کر دیا ہے۔

جب میں نے اپنی الماریاں صاف کیں تو ایک پرانی ہائی ہیل جوتی کو باہر چھوڑ دیا کہ کسی کو دے دوں گی۔ میں نے دیکھا کہ اس جوتی کو اس نے پہن رکھا ہے۔ اس نے ہیل کاٹ دی تھی اور وہ اسے مزے سے پہنے پھر رہا تھا۔

جو کچھ وہ کماتا ہے اسے وہ وسطی جاوا کے ایک دیہات میں آباد اپنے اہل خانہ کو بھیج دیتا ہے اور سال میں صرف ایک بار ان سے ملنے جاتا ہے۔ امیروں کے کوڑے سے کمائی جانے والی دولت سے اس کے بچوں نے ہائی سکول پاس کر لیا ہے اور اب جکارتہ کے چمکتے ہوئے مالز میں فروخت ہونے والی مصنوعات کو بنانے کا کام کرتے ہیں۔

ایک بار انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ ‘آئی پیڈ کیا ہوتا ہے؟ میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ اسے اس کی واقعی ضرورت ہے۔ وہ کس طرح کام کرتا ہے؟’ میں نے اس سے بات کی اور اس کا ایک سستا متبادل بتایا۔

اس کی بیٹی مختصر سے عرصے کے لیے اس کے ساتھ رہنے آئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے فون میں بہت دلچسپی لے رہی تھی۔

سلیمون شاید سرپھرے امیر نہ بن سکیں لیکن ان کی آنے والی نسل ابھی سے پکی صارف بن چکی ہے۔

—–Shared for Information Purpose Only—-