منگل , جولائی 23 2019
Breaking News
Home / News / پاکستان میں سالانہ 60 ہزار بچے عارضہ قلب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، ڈاکٹر نجمہ پٹیل

پاکستان میں سالانہ 60 ہزار بچے عارضہ قلب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، ڈاکٹر نجمہ پٹیل

پورے پاکستان میں بچوں کے ماہرین انتہائی ناکافی ہیں، ڈاکٹر نجمہ پیٹل

پورے پاکستان میں بچوں کے ماہرین انتہائی ناکافی ہیں، ڈاکٹر نجمہ پیٹل

 کراچی: پاکستان میں بچوں کے امراضِ قلب کی ممتاز سرجن اور ماہر ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے کہا ہے کہ ملک میں ہر سال 60 ہزار بچے کسی نہ کسی عارضہ قلب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں دوسری جانب بلوچستان میں دل کے مریض بچوں کے لیے کوئی ادارہ ہی موجود نہیں۔  

یہ بات قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں شعبہ اطفال کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں 50 ویں عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”پاکستان میں بچوں کے امراضِ قلب کے علاج کی صورتِ حال“ کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی۔

لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) اور ورچؤل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے بتایا کہ قلبی نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے 25 فیصد بچوں کو سرجری درکار ہوتی ہے۔ صوبہ بلوچستان اس لحاظ سے بدقسمت ہے کہ وہاں عارضہ قلب کے شکار بچوں کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں۔

بدھ کے روز پی سی ایم ڈی کے تحت پچاسویں عوامی آگہی پروگرام کے تحت ’پاکستانی بچوں میں امراضِ قلب کی صورتِ حال‘ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں میں امراضِ قلب (چائلڈ کارڈیالوجی) کا شعبہ بہت وسیع اور خاص ہوتا ہے، ایسے بچوں کے لیے معالج، سرجن اور انتہائی نگہداشت کے عملہ انتہائی ماہر ہونا چاہیے۔

ایسے مریضوں کی تعداد اور کیفیت کے متعلق ڈاکٹر نجمہ نے کہا کہ 30 ہزار بچوں میں دیگر امراضِ قلب جیسے عضلات قلب میں ورم وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں، پاکستان میں ہر سال 35 ہزار بچے امراضِ قلب کے اسپتال کے شعبہِ اطفال میں لائے جاتے ہیں جبکہ دیگر بچوں کی مرض کی تشخیص نہیں ہوپاتی ہو اور وہ مرجاتے ہیں یہاں تک کہ اچھے ہسپتالوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔

امراضِ قلب کے شکار بچوں میں زیادہ تعداد اُن کی ہے جن کا تشخیص کے بعد علاج ممکن ہے، 2018 ء میں صرف قومی ادارہ برائے امراضِ قلب میں ایک لاکھ بچے دل کے امراض کی شکایت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا اس مرض کے علاج کے لیے ملک میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور دوسری طرف اس عنوان سے آگاہی کا بھی فقدان ہے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب اپنی نوعیت کا پاکستان میں سب سے پہلا ادارہ ہے جہاں 1974ء سے امراضِ قلب کے تحت آپریشن کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا بین الاقوامی معیار کے تحت ملک میں 250 بچوں کے ماہرِ قلب اور 150 سرجن کی ضرورت ہے جبکہ اس ضرورت کے برعکس صرف 35 ماہرِقلب اور 16 سرجن موجود ہیں، ملک میں ہر سال 22 ہزار آپریشن کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن صرف 4ہزار آپریشن ہی ہوپاتے ہیں۔

—–Shared for Information Purpose Only—-Like and Subscribe my Youtube ChannelWatch it on Youtube