News

محمد عامر، بڑے میچ کا بڑا بولر

By  | 

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد عامر نے ورلڈ کپ میچوں میں اب تک آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں

محمد عامر جب سے اپنے کیریئر کے دوسرے دور میں آئے ہیں ان کے بارے میں آراء بھی ملی جلی رہی ہیں۔

اب بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ سارے معاملے کو اس واقعے کے تناظر میں دیکھتے ہیں جس نے بقول ان لوگوں کے پوری قوم اور پاکستانی کرکٹ کو شرمسار کر دیا تھا۔

دوسری سوچ اس سے قطعاً مختلف ہے کہ محمد عامر نے جو کچھ کیا اس کی سزا پاکر وہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے ہیں اور دوسری زندگی اور دوسرا کریئر ان کا بنیادی حق ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

محمد عامر کا فیصلہ کن پہلا سپیل

محمد عامر کے دوبارہ ہیرو بننے میں کیا رکاوٹ؟

’محمد عامر دنیا کے مشکل ترین بولر ہیں‘

لوگوں کی اسی متضاد سوچ کے ساتھ محمد عامر نے جب بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع کی تو ان کی کارکردگی میں بھی اتارچڑھاؤ دیکھنے میں آتے رہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ محمد عامر ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ مقابلے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔حالات نے انہیں پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔

ورلڈ کپ سے قبل یہ سوال زبان زد خاص وعام تھا کہ کیا محمد عامر اپنی موجودہ کارکردگی کی وجہ سے ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں؟

سلیکشن کمیٹی کے لیے محمد عامر کو ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ جتنا مشکل تھا اتنا ہی مشکل انہیں ٹیم سے باہر رکھنے کا بھی تھا۔ اس مشکل کو آسان بناتے ہوئے سلیکشن کمیٹی نے محمد عامر کو ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ کے خلاف ہونے والی ون ڈے سیریز کی ٹیم میں شامل کر لیا اور ورلڈ کپ کی ٹیم کے اعلان کی ڈیڈ لائن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر محمد عامر اور آصف علی انگلینڈ کے خلاف سیریز میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں ورلڈ کپ میں موقع مل سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف محمد عامر نے اپنے ون ڈے کریئر کی بہترین انفرادی کارکردگی دکھائی اور تیس رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کر ڈالیں

آصف علی نے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں دو نصف سنچریاں بناکر ورلڈ کپ کی ٹیم میں جگہ بنا لی لیکن محمد عامر کے لیے صورتحال اتنی آسان نہ تھی کیونکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے اوول میچ میں انہیں کھیلنے کا موقع ملا لیکن وہ میچ بارش بہا لے گئی اور اس کے بعد محمد عامر خسرہ میں مبتلا ہوگئے۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کسی کارکردگی کے بغیر محمد عامر کو جب ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا تو تجزیہ کار اور مبصرین کا یہ سوال غلط نہ تھا کہ یہ مہربانی کیوں؟

چیف سلیکٹر انضمام الحق کا اس پر جواب یہ تھا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر انگلینڈ کی بدلتی کنڈیشنز کے لحاظ سے موزوں گردانے گئے ہیں اور ان کا تجربہ ٹیم کے کام آسکتا ہے۔

محمد عامر نے دو سال پہلے چیمپینز ٹرافی کے فائنل سے موجودہ ورلڈ کپ تک چودہ مکمل ون ڈے میچوں میں صرف پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن اب ورلڈ کپ کے صرف تین مکمل میچوں میں وہ آٹھ وکٹیں حاصل کرکے سلیکٹرز کا فیصلہ درست ثابت کر چکے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف گرنے والی تینوں وکٹیں محمد عامر نے حاصل کیں جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اس عالمی کپ میں کچھ کر دکھانے کے لیے آئے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف دو وکٹوں کے بعد عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے اپنے ون ڈے کریئر کی بہترین انفرادی کارکردگی دکھائی اور تیس رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

اس میچ میں محمد عامر نے پہلے ہی اوور سے آسٹریلوی بیٹسمینوں کو یہ باور کرادیا تھا کہ ان کے خلاف رنز بنانا آسان نہ ہوگا اورجب دوسرے اینڈ سے شاہین شاہ آفریدی مہنگے ثابت ہو رہے تھے محمد عامر کا آسٹریلوی بیٹسمینوں پر دباؤ کسی بھی طرح کم نہیں ہوا۔

—–Shared for Information Purpose Only—-

You must be logged in to post a comment Login