2

ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے!

آپ کو کسی کی ذاتیات پر انگلی اٹھانے کا لائسنس کس نے دے دیا؟(فوٹو: انٹرنیٹ)

آپ کو کسی کی ذاتیات پر انگلی اٹھانے کا لائسنس کس نے دے دیا؟(فوٹو: انٹرنیٹ)

اگر وہ پہلے ناچتی تھی، ڈرنک کرتی تھی، چرس کے سوٹے لگاتی تھی، دل پشوری کرتی تھی تو کیا سر مونڈ کر اس کے کپڑے اتارنے کو جواز مل گیا؟

گویا اس کی ویڈیو لگا کر آپ متقی پرہیز گار لوگ اپنے جواز کو بطور ثبوت پیش کررہے ہیں کہ یہ ایسی تھی، تب ایسا ہوا۔

خاوند جیسا تھا، سو تھا؛ لیکن ہمارے سماج کے ہر مرد و زن کو بھی یہ کہنے کا اختیار کیسے مل گیا کہ ایسیوں کے سر مونڈے ہی جاتے ہیں؟

گویا سر مونڈنے سے لے کر ننگا نچانے تک ہر سزا واجب ہوگئی؟ بغیر تحقیق کیے صرف ایک دو منٹ کے کلپ دیکھنے کے بعد ایک عورت سے اس کا مقام چھین لینا؟ آپ یہ سب کس حیثیت سے لکھتے اور اپنی وال کی زینت بناتے ہیں؟

آپ کو کسی کی ذاتیات پر انگلی اٹھانے کا لائسنس کس نے دے دیا؟ کیا اس سماج کے واحد داروغہ ہیں آپ؟

اب ایک عورت ناچتے ناچتے یہ تہیہ کرلے کہ اسے مزید نہیں ناچنا… نہ غیر مرد کے سامنے نہ گھر میں… لیکن جب وہ انکار کر دیتی ہے تو اس کا سر مونڈ دینا کیا درست طرز عمل ہے؟

گویا سابقہ گناہ، بدکاری، بدچلنی کی بنا پر اپنے کردار، اپنے فکر و عمل میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی؟

سابقہ ویڈیو شیئر کرکے سماج کو یہ بتانا کہ دیکھو کتنی آزاد خیال تھی ’’گود میں چڑھ کر ناچتی تھی‘‘، کو بنیاد بنا کر پرہیزگاری کے فتوے وال پر لگانے سے کیا آپ یہ نہیں ثابت کررہے کہ آپ پاکستان کی وہ واحد مخلوق ہیں جو اللہ کے برگزیدہ بندے اور شر سے پاک عظیم مومن ہیں؟

جاننا چاہتی ہوں کہ دوسروں کے عیب کی ویڈیو دکھا کر اصلاحِ معاشرہ کیا ممکن ہے؟

خدا جانے اس تبدیلی فکر میں اس کے اعمال کا پلڑا آپ سے اور ہم سے کئی گنا زیادہ بھاری ہوگیا ہو۔

’’ایسی تھی تو ایسا ہوا‘‘ جیسے جملوں کے جواب میں اتنا ہی کہوں گی کہ عورت اگر نہ بھی ناچے، پابندِ صوم و صلوٰۃ ہو تو چولہا تب بھی پھٹتا ہے۔ عورت کے بازو ٹانگیں تب بھی ٹوٹتی ہیں، بال تب بھی مونڈے جاتے ہیں، ناک، زبان تب بھی کاٹی جاتی ہے، اس پر تیزاب گرا کر کہ یہ کسی قابل نہ رہے، ظلم تب بھی روا رکھا جاتا ہے۔

لہٰذا ذرا سا گریبان میں جھانکیے… اپنے اندر سے بدبو اور تعفن کے کئی بھبھکے آپ کے حواس کو معطل کرنے کے لیے کافی ہیں۔

کسی کے عیب کی ویڈیو دکھا کر، جتا کر، اسے مزید ننگا کرکے اوپر سے مزید جرح کا تڑکا لگانا ایک بے حد پسماندہ طرز فکر ہے۔

لہٰذا دوسروں کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کیجیے۔

کتنے عظیم لوگ ہیں ہم کہ سابقہ گناہ کی بنیاد پر مزید گناہ سے انکار کرتے مرد ہوں یا عورت… ہم متقی لوگوں کو قبول ہی نہیں۔

سبحان اللہ! جنت تو ہم ہی لوگوں کا انتظار کررہی ہے۔ تو جلدی جلدی ایسے لوگ مر ہی جائیں تاکہ دنیا جنت بن سکے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

—–Shared for Information Purpose Only—-