3

ماں کی ضرورت ہے

ایک عدد ماں کی ضرورت ہے‘‘ کا اشتہار حسرتوں کے درودیوار پر چسپاں دِکھائی دیتا ہے۔ دیکھتی آنکھیں اِسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔ سُنتے کان قوت شنوائی سے محروم ہیں۔ اور قلبِ حزیں کی دھڑکنیں نبض کی چالوں

’’ایک عدد ماں کی ضرورت ہے‘‘ کا اشتہار حسرتوں کے درودیوار پر چسپاں دِکھائی دیتا ہے۔ دیکھتی آنکھیں اِسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔ سُنتے کان قوت شنوائی سے محروم ہیں۔ اور قلبِ حزیں کی دھڑکنیں نبض کی چالوں سے نابلد محسوس ہوتی ہیں، یہ ایک نوحہ ہے…بے گھری کا نوحہ… یہ ایک ماتم ہے …مفلسی کا ماتم… یہ ایک مرثیہ ہے …قتل جذبات کا مرثیہ …یہ ایک جنازہ ہے…بے بسی کا جنازہ…یہ ایک لاشہ ہے … لاچارگی کا لاشہ… یہ ایک میت ہے… آہ و فغاں کی میت… یہ ایک تڑپ ہے …پاتالِ روح کی تڑپ… یہ ایک شور ہے…خامشی کا شور…یہ ایک غوغا ہے… اُس وجود کا غوغا… جس کا بچپن کوڑے کے ڈھیر پہ پلا…جس نے یتیم خانے کی چھت کے نیچے اپنی معصوم خواہشوں کو شرارتوں کی آغوش میں بے بس پایا۔ اُس کے لب و رُخسار ساری زندگی ماں کے بوسوں کے لئے تڑپتے رہے، اُس کا سر باپ کے شفقت بھرے ہاتھ کے لئے ہمیشہ بے قرار رہا۔ اُس کا  سینہ بھائی کے سینے سے لپٹنے کے لئے ترساں رہا۔ اُس کی آنکھیں بہن کی چوڑیاں دیکھنے کو لرزاں رہیں۔ وہ یتیم خانے کو دیواروں کی اپنی ماں اور چھت کو باپ کا سائباں سمجھنے کی اُلجھی ہوئی گُتھی کو سُلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔
 وہ یتیمی کی فضائوں میں ماں کی لوریاں سُننے کی سعی کرتا رہا۔ وہ کھلونے ٹوٹنے کی صدائوں کی بازگشت سے دِل بہلاتا رہا۔اُسے کبھی ماں کی آغوش میسر نہ آ سکی۔ اُسے کبھی ممتا کا بچھا ہوا بستر نصیب نہ ہو سکا۔ وہ حسرتوں کے میدان میں کئی مرتبہ محبتوں کا کھیل ہار گیا۔ شکست اُس کا نصیبا بن گئی۔ وہ اپنے آپ سے کھیلتا تو خود سے ہی ہار جاتا۔ اُس کے مدِّمقابل اُس کا اپنا ہی وجود اُس کا حریف بن کر کھڑا ہو جاتا۔ اُس کی تنہائیاں اُسے ڈسنے لگتیں۔ اُس کا اکیلا پن اُسے گھورتا۔ اُس کی لاچارگی اُس پر آوازے کستی۔ اُس کی بے بسی اُس پر قہقہے لگاتی۔ اُس کی شرارتیں اُسے زخمی کر دیتیں اور اِن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ کبھی کبھی بے سُدھ ہو جاتا۔ وہ معاشرے میں چڑھتے ہوئے سُورجوں کو جب ڈوبتے ہوئے دیکھتا تو اُس کو اپنی زیست کا سورج غروب ہوتے ہوئے دکھائی دیتا۔ وہ کبھی بیمار ہو جاتا تو اُس کا بخار اُس کے وجود پر تڑپ اُٹھتا۔ وہ اپنی ماں کو پکارتا۔ باپ کو آواز دیتا۔ بہن اور بھائی کو صدائیں دیتا مگر یتیم خانے کی بلند و بانگ دیواروں سے ٹکرا کر اُس کی ساری کی ساری آوازیں واپس لوٹ آتیں۔ وہ ساری آوازیں اُس پر طزیہ مسکراہٹوں کی بارش کر دیتیں اور وہ اِن طنزیہ مسکراہٹوں میںبھیگ جاتا۔ اُس کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ یتیم خانے کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر اُس کی تپتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر منتظم کو بلاتا اور کہتا کہ میرے پاس اِس بیمار کا کوئی علاج نہیں ہے، اِس بچے کی پیشانی کو ماں کی ہتھیلی کی ضرورت ہے۔ مگر ماں کہاں سے ملتی؟ منتظم کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ وہ کوڑے کے ڈھیر سے اُٹھایا جانے والا بچہ زیست کے زینے چڑھتا ہوا یتیم خانے کے روزن سے باہرکی دنیا دیکھنے لگا۔ چمکتی کاریں، فراٹے بھرتی گاڑیاں کالی سڑک کے سینے پر دوڑتی رعنائیاں اُس کا جگر چھلنی کرنے لگتیں۔ وہ باپ کی چھتری تلے چلچلاتی دھوپ میں سکول سے واپس آتے بچوں کو دیکھتا تو اُس کی روح باپ کے سایہ کے لئے کروٹیں بدلنے لگتی۔ وہ محرومیوں کا سائبان اپنے سر پر تان لیتا۔ ایک دِن اُس نے یتیم خانے کی دیواروں سے بغاوت کر دی۔ اُن دیواروں سے بغاوت… جن دیواروں نے اُسے ماں ایسی حفاظت فراہم کی تھی… وہ روشن دان پر پائوں رکھ کر یتیم خانے کی دیوار پھلانگ گیا۔ وہ اُس دُنیا سے بچھڑ گیا جس میں دیواریں ماں بن جاتی ہیں اور چھت باپ کا سایہ…اُسے پتھر کی ماں اور پتھر کا باپ نہیں چاہئے تھا۔
 وہ ایک درگاہ پر پہنچا جہاں ہزاروں لوگ منتیں مانگنے آتے ہیں۔ اُس نے بارگاہ ایزدی میں اپنا سر رکھ دیا۔ رات بھر رو روکرماں سے ملنے کی دُعائیں مانگتا رہا۔ اور پھر وہ درگاہ اُس کا مسکن بن گئی۔ وہ اُس درگاہ پر ہزاروں زائرین کے چہروںمیں سے کبھی ماں کا چہرہ تلاش کرتا، کبھی باپ کا، کبھی بہن کا اور کبھی بھائی کا، مگر وہ اِس پُرہجوم درگاہ میں خود کو تنہا محسوس کرتا۔ اُس کی راتیں آنسوئوں کی جائے نماز میں بسر ہوتیں اور دِن ماں باپ کے چہرے پہچاننے میں گزر جاتا۔ وہ اپنی شناخت پانے کی دُھن میں اپنی ماں کے قدموں کی چاپ کا منتظر تھا۔ مگر ہر چاپ اُسے مایوس کر دیتی۔ایک دِن اُسے ماں کو تلاش کرنے کی ایک ترکیب سوجھی۔ وہ درگاہ سے نکل کر ایک اخبار کے دفتر میں گیا۔ اُس نے ایک اشتہار دیا کہ خدائے بزرگ و برتر کی وسیع و عریض کائنات میں ایک یتیم اور مسکین بچے کو ایک عدد ماں کی ضرورت ہے۔ وہ ماں جو اُس کی تپتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اُس کی روح تک کو سیراب کر دے۔ وہ ماں جو اُس کے گالوں پر بوسہ دے کر اُسے امر کردے۔ وہ ماں جو اُسے اپنے سینے سے لگا کر اُس کے دِل کی بے قرار دھڑکنوں کو قرار دے دے۔وہ ماں جو اُس کی شرارتوں میں رنگ بھردے۔ وہ ماں جو اُس کے لئے اپنی چاہتوں کا گداز بستربچھا کر اُسے پُرسکون نیند کے سپرد کر دے۔ وہ ماں جو اُسے اپنی آغوش میں لے کر اپنی لوریوں کے جُھولے میں جُھولا جھل دے۔ وہ ماں جو اُس کی روح کو بدن سے آشنا کر دے۔ وہ ماں جو اُس کے بھوکے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُس کی بُھوک کا اندازہ لگا سکے۔ وہ ماں جو اُس کے پائوں میں چبھنے والے کانٹوں کے درد کو چُن لے۔ وہ ماں…ہاں وہی ماں…وہی ماں…جس کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے۔ وہی ماں جس کے قرب سے محبتوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ وہی ماں جس کے بوسے حلاوت بخشتے ہیں۔ وہی ماں جس کے سینے سے لپٹ کر ایک بچہ دنیا و مافیہاسے بے خبر ہو جاتا ہے۔ وہی ماں جس کے بازوئوں کا حصار، حفاظت کا بند باندھ دیتا ہے۔ وہی ماں جس کی چاہتوں کافشار غم کے دریائوں کی طغیانی کو بجھا دیتا ہے۔ وہی ماں جس کی آہ اپنے بچے کے درد کی صدا بن جاتی ہے۔ وہی ماں جو خود گیلے بستر پر سو کر اپنے لختِ جگر کو سُوکھے بستر پر لٹاتی ہے۔ وہی ماں جو اپنے نورِ نظر پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ ہاں! اُسی ماں کی ضرورت ہے۔ جو ماں سردیوں کی دھوپ اور گرمیوں کی چھائوں بن جاتی ہے۔ اُسی ماں کی ضرورت ہے۔ اگر میری یہ صدا میری ماں تک پہنچے تو مجھے فلاں درگاہ پر ملنے آ جائے۔ اگلے روز اشتہار شائع ہو چکا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اُس دِن درگاہ پر حضرات کی نسبت عورتوں کا رش زیادہ تھا۔ وہ درگاہ کے سب سے اونچے چبوترے پر کھڑا ہو کر اپنی ماں کا انتظار کرنے لگا۔
 ایک، دو، تین، درجنوں، سینکڑوں، ہزاروں عورتوں کے قدموں اور چہروں کی طرف دیکھتے دیکھتے اُس کی آنکھیں آبشار کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ وقت کی ساعتیں حسرتوں کے گھڑیال سے پھسل پھسل کر مغرب کی آغوش میں جا رہی تھیں۔ صبح سے دوپہر، دوپہر سے شام اور پھر شام سے رات ہو گئی۔ اُسے ماں کا چہرہ دِکھائی نہ دیا۔ ممتا کے قدموں کی چاپ سنائی نہ دی۔ اُس کی دعائیں بارگاہ ایزدی میں شرفِ قبولیت نہ پاسکیں۔ وہ روتی آنکھوں، سسکتی حسرتوں، چلاتی خواہشوں کو سینے سے لگائے یتیم خانے میں وپس لوٹ آیا۔

—–Shared for Information Purpose Only—-